Monday, 20 March 2017

Origin of Adhan (Azan) Daily Hadith

Daily Hadith - Origin of Adhan (Azan)
Daily Hadith - Origin of Adhan (Azan)


أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، لَيْسَ يُنَادَى لَهَا، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ

Narrated Ibn `Umar: When the Muslims arrived at Madinah, they used to assemble for the prayer, and used to guess the time for it. During those days, the practice of Adhan for the prayers had not been introduced yet. Once they discussed this problem regarding the call for prayer. Some people suggested the use of a bell like the Christians, others proposed a trumpet like the horn used by the Jews, but `Umar was the first to suggest that a man should call (the people) for the prayer; so Allah's Messenger ﷺ ordered Bilal to get up and pronounce the Adhan for prayers.

حضرت ابن عمر سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب مسلمان مدینہ منورہ آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ کر کے اس کے لیے جمع ہوا کرتے تھے کیونکہ اس وقت نماز کے لیے باقاعدہ اذان کا اہتمام نہ تھا۔ ایک دن انہوں نے اس کے لتعلق باہمی مشورہ کیا تو کسی نہ کہا: عیسائیوں کی طرح ایک ناقوس بنا لیا جائے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: یہودیوں کی طرح بگل کی طرح ایک نر سنگھا رکھ لیا جائے، مگر حضرت عمر نے فرمایا: تم ایک آدمی کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کی اطلاع دے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو اور نماز کی اطلاع دو۔

[Sahih Al-Bukhari, Book of Adhan, Hadith: 604]
Chapter: How the Adhan for Salat (Prayer) was started.

No comments:

Post a Comment

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...