Saturday, 11 October 2014

خوش قسمت عرب لڑکی، اللہ نے آخری دعا فوراًقبول کرلی



 ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خدا کے پاک گھر کی زیارت کے دوران خالق حقیقی سے جاملے لیکن سعودی عرب میں ایک نوجوان لڑکی واقعی اتنی خوش قسمت ثابت ہوئی کہ مبارک ساعتوں میں موت کی دعا کرنے کے کچھ وقت بعد ہی دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اخبار ”صدا“ کے مطابق لڑکی نے اپنے والد احمد المالکی کو ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ وہ بیت اللہ کی زیارت سے مسحور اورمسرور ہے اور دعا کرتی ہے کہ خدائے بزرگ و برتر ان مبارک لمحوں میں اسے اپنے پاس بلالے۔ المالکی نے بتایا کہ ایک گھنٹے بعد ہی اس کی بیٹی کی وفات کی خبر آگئی جبکہ وہ حج کے تمام ارکان تقریباً مکمل کرچکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی حج کے مبارک دنوں میں ہی پیدا ہوئی تھی اور اسکی خواہش اور دعا تھی کہ وہ انہیں مبارک دنوں میں دنیا سے رخصت ہو۔ جب لوگ تعزیت کیلئے آئے تو المالکی نے انہیں تعزیت سے منع کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ انہیں مبارکباد دیں کہ ان کی بیٹی کو قدرت نے انمول سعادت نصیب فرمائی اور اس کیلئے رحمت اور بخشش کی دعا کریں۔

Monday, 22 September 2014

عید الاضحی کے احکام و مسائل



عید الاضحی کے احکام و مسائل 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)نماز عید کے لیے سب مسلمان مرد وعورتیں جائیں حتیٰ کہ حیض والی عورتیں اور پردہ والی خواتین بھی مسلمانوں کی دعا میں ضرور شریک ہوں۔ (بخاری: حدیث ۳۲۴)
(2)عید گاہ میں جانے سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے، لیکن اگر کھالے تو نبی ﷺ کی تقریری حدیث کے مطابق وہ بھی درست ہے۔(بخاری:حدیث۹۸۳)
(3)عید گاہ میں عید کی نمازکے سوا، نہ پہلے کوئی نفل وغیرہ پڑھے جائیں اورنہ بعد (بخاری)
(4)عید اگر جمعہ کو آجائے تو جمعہ پڑھنے میں اختیار ہے، جمعہ نہ پڑھنا ہو توظہر کی نماز پڑھ لے (ابن ماجہ)
(5)عید کی نماز مسنون طریقہ سے ادا کرنے کے بعد رستہ بدل کر آنا چاہیے۔(بخاری:۹۸۶)
(6)جس کی عید کی نماز فوت ہو جائے تو وہ علیحدہ دو رکعتیں عید کی طرح پڑھ لے۔ (بخاری)
(7)عید کے دنوں میں تکبیرات کے مستند الفاظ یہ ہیں: «اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، اﷲ أکبر کبيرا »
دوسری روایت:«اﷲاکبرکبيرا، اﷲ أکبرکبيرا، اﷲ أکبروأجلّ، اﷲ أکبروﷲ الحمد» (بیہقی، ابن ابی شیبہ ،مستدرک حاکم۱۱؍۲۹۹)
(8)جانوروں کو غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا شرک وحرام ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اپنے والد پر لعنت کرے اور اللہ تعالیٰ اس آدمی پر بھی لعنت کرے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے۔‘‘ (مسلم: حدیث۵۰۹۶)
(9) عید الاضحی کے روز نمازِ عید پڑھ کر قربانی کرنی چاہیے۔اگر پہلے قربانی کر لی گئی تو وہ قربانی متصور نہ ہو گی اور دوبارہ قربانی کرنا پڑے گی۔ (بخاری : حدیث ۹۸۵،مسلم)
(10) قربانی کرنیوالا چاند دیکھتے ہی دس ذوالحجہ تک کے لیے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔ (مسلم )
(11) قربانی کی طاقت نہ رکھنے والا عید کے دن ہی اپنے ناخن اور بال کٹوائے، اس کی یہی قربانی ہے۔( ـابو داود:حدیث۱۰۱۶)
(12) چھری وغیرہ جانور کو دِکھا کر تیز نہیں کرنی چاہیے اور چھری خوب تیز کی جائے تا کہ جانور کو آرام پہنچے۔ (مسلم : حدیث۵۰۶۴، حاکم ۲۳۱۱۴، نسائی ۴۴۱۳)
(13) اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا چاہیے جبکہ دوسرے جانوروں کو لٹا کر ذبح کرنا چاہیے اور اپنا قدم اس کے پہلو پر رکھنا سنت ہے۔ (بخاری:حدیث۱۷۱۳ ،مسلم)
(14) جانور کو قبلہ ُرخ لٹانا سنت ہے۔(بیہقی:حدیث۹؍۲۸۵، موطأ:۱؍۳۷۹)
(15) جانوروں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔(بخاری:حدیث ۵۵۵۸، مسلم)
(16) عورت بھی ذبح کر سکتی ہے۔ (فتح الباری ؍ بخاری:حدیث ۵۵۵۹)
(17) ذبح کرتے وقت تکبیر ان الفاظ میں پڑھی جائے: ’بسم اللہ واللہ اکبر‘ (مسلم:حدیث۵۰۶۳)
(18) ذبح کرنے والے کی اُجرت کھال یا قربانی کے گوشت کی صورت میں نہیں بلکہ اپنے پاس سے دینی چاہیے کیونکہ نبی ﷺ نے کھال اُجرت پر دینے سے منع کیا ہے (بخاری، مسلم)
(19) ایک قربانی سب گھر والوں کو کفایت کر جاتی ہے۔(صحیح ترمذی:حدیث۱۲۱۶)
(20) بڑے جانور مثلا گائے اور ا ونٹ کی قربانی میں ایک سے زیادہ لوگ شریک ہوسکتے ہیں۔ گائے کی قربانی میں سات اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد تک حصہ دار بن سکتے ہیں۔ (نسائی:حدیث۴۳۹۲، ترمذی:حدیث ۱۵۵۳، احمد ، حاکم)
(21) قربانی کا گوشت غربا،مساکین پر صدقہ کیا جاسکتا ہے ۔دوست واحباب ،عزیز واقارب کو تحفہ اور خود بھی جتنی ضرورت ہو کھایا جاسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ‌...٣٦ ﴾... سورة الحج ’’پس ان (کے گوشت) سے کھاؤ، نہ مانگنے اور مانگنے والے، دونوں کو کھلاؤ۔‘‘ اور اسکے علاوہ سٹور بھی کر سکتا ہے۔(مسلم:حدیث ۵۰۷۷)
(22) قربانی کی کھال کا مصرف بھی گوشت کی طرح ہی ہے ۔
(23) قربانی کے جانور کے اوصاف: 1. جانور صحت مند ہونا چاہیے۔ 2. جانور کا دو دانتا ہونا ضروری ہے۔ اگر دو دانتا نہ ملے یا تنگی کی وجہ سے دو دانتا نہ لیا جاسکتے تو کھیرا مینڈھا چل جائے گا۔ (مسلم:حدیث ۱۹۶۳)
(24) قربانی کا جانور مندرجہ ذیل عیوب سے پاک ہونا چاہیے :
1. کان اور آنکھیں اچھی طرح دیکھ لی جائیں کہ کہیں آنکھیں کانی نہ ہوں جن کا کانا پن ظاہر ہو۔
2. کان اوپر نیچے سے کٹا ہوا نہ ہو اور کان لمبائی میں بھی چرا ہوا نہ ہو ،نہ ہی کان میں گول سوراخ ہو۔
3. لنگڑا نہ ہو کہ اس کا لنگڑا پن ظاہر ہوتا ہو۔
4. واضح بیماری والا نہ ہو۔
5. لاغر نہ ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ ہو۔6. کان اور سینگ آدھا یاآدھے سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو (ابوداود:حدیث۲۸۰۲،ابن خزیمہ:حدیث۲۹۱۲، مستدرک:حدیث۱؍۴۶۸، دارمی)
یہ قربانی ’ایامِ تشریق‘ (۱۱،۱۲،۱۳ذوالجہ ) کے دنوں میں کی جاسکتی ہے۔ (احمد ،دار قطنی، ابن حبان)

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...